مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی، لیکن وہ جنگ کے خاتمے کو مخالف یا جارح فریق کی شرائط کے مطابق قبول نہیں کرے گا۔ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔
تفصیلات کے مطابق اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواں ہفتہ ایرانی عوام کی خدمت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے شہید محمد علی رجائی، شہید محمد جواد باہنر، شہید ابراہیم رئیسی اور سابق وزیر خارجہ شہید حسین امیر عبداللہیان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
بقائی نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران تاریخی تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی قومی طاقت کو مضبوط کیا ہے۔ آج دشمن تمام سازشوں کے باوجود ایرانی قوم کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جو انہی تاریخی تجربات سے حاصل ہونے والے سبق کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کے باوجود وزارت خارجہ نے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں اور دنیا بھر میں موجود ایرانی سفارتی مراکز نے عالمی سطح پر ایرانی مؤقف پہنچانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ وزارت خارجہ کو اصلاحاتی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے بہترین اداروں میں شمار کیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے بعض یورپی ممالک کی ممکنہ جنگی شرکت سے متعلق مغربی میڈیا کی رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے یہ خبریں بھی سنی ہیں کہ بلغاریہ سے چند ایندھن بردار طیارے روانہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک جارحانہ کارروائی کے لیے اپنی سہولیات فراہم کرتا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جارحیت میں شرکت تصور ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کسی ملک کو ایران سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، جب تک کہ وہ اپنی سرزمین یا اڈوں کو کسی غیر قانونی اقدام کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ بقائی نے واضح کیا کہ ایران کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
صدر ایران مسعود پزشکیان کے جنگ کے خاتمے سے متعلق بیانات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام بارہا ملک کے دفاع کے عزم اور سنجیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایران کسی بھی جارح فریق کے ساتھ نرمی نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا آغاز کرنے والا ملک نہیں تھا بلکہ اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کر رہا تھا۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی، لیکن ہم جنگ کا اختتام جارح فریق کی شرائط کے مطابق نہیں ہونے دیں گے۔ صدر پزشکیان بھی متعدد مواقع پر ایران کے عدم تسلیم اور مزاحمت کے مؤقف کو واضح کر چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ